چنتامنی:17 /اکتوبر(محمد اسلم/ایس او نیوز)تجارتی مرکز شہر چنتامنی جڑواں اضلاع میں بہت مشہورکہلاتا ہے چنتامنی تعلقہ میں ابھی سے اسمبلی انتخابات کے لئے سیاسی لیڈروں نے تیاریاں رشروع کردی ہے ابھی اسمبلی انتخابات شروع ہونے میں ایک سال یا اُس سے کچھ زائد عرصہ ہے یہاں ابھی سے دوسیاسی لیڈران سماجی خدمات کے نام پر اقتدار حاصل کرنے کیلئے آگے آرہے ہیں ۔2013 میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں سماجی خدمت کے نام پر آئے جے کے کرشناریڈی نے چنتامنی حلقہ ایم ایل اے سیٹ حاصل کرلی اور یہاں برسوں سے سیاست کررہے دونوں خاندان والوں کے خواب کو کرشناریڈی نے چکنا چور کردیا ۔آنے والے اسمبلی انتخابات کے مد نظر اپنی سیاسی دوکان چمکانے کے لئے ماڈکیرے ارون بابو جو وظیفہ یاب سی بی آئی افسر ہے اور بنگلور رئیل اسٹیٹ کے تاجر آنند کمار دکیشات یہ دو نوں چنتامنی حلقہ میں سماجی خدمت کاآغاز کردیا ہے ۔
ارون بابو جو پچھلے چند مہینے قبل رُکن اسمبلی جے کے کرشناریڈی کے ساتھ رہا کر جنتادل(ایس)پارٹی کی حمایت کرنے کے علاوہ کئی پروگرامس میں ارون بابو جے کے کرشناریڈی کے ساتھ نظر آچکے ہیں وہ پچھلے دو تین مہینوں سے سماجی خدمت کے نام پر اچانک بی جے پی پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی اور وہ آنے والے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی امیدوار کے حیثیت سے اسمبلی انتخابات لڑ نے کی کوشش میں مصروف ہے لیکن بی جے پی کے چند اعلیٰ لیڈروں سے ملی اطلاع کے مطابق ارون بابو کو بی جے پی پارٹی سے ٹکٹ ملنا کافی مشکل معلوم ہورہا ہے کیونکہ چنتامنی حلقہ میں بی جے پی پارٹی میں دو گروپ ہوچکے ہیں ایک ارون بابو کا گروپ اور دوسرا پرکاش کا گروپ دونوں افراد آنے والے اسمبلی انتخابات لڑنے کے لئے بی جے پی پارٹی سے ٹکٹ حاصل کرنے ایڑی چوٹ کا زور لگا رہے ہیں لیکن چنتامنی حلقہ میں بی جے پی پارٹی کافی کمزور نظر آرہی ہے یہاں تو صرف کانگریس یا جنتادل(ایس)دونوں پارٹیوں کا ہی دربار زیادہ چلتا ہے ۔ارون بابو پچھلے دو تین مہینوں سے اسکولی بچوں میں بیگس تقسیم کرنا مریضوں کے علاج کے لئے امداد کرنا غریبوں کو اچھی صحت بنائے رکھنے کے لئے مفت میڈیکل کیمپ عید تیوہاروں کے موقع پر تحفے دینے کے علاوہ مزید سماجی خدمت کرنے کا عزم کیا ہے اب یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا ارون بابو کی سماجی خدمت یہاں گل کھلائے گی ؟
ان کے علاوہ اور ایک شخص جو بنگلور رئیل اسٹیٹ کے تاجر آنند کمار دیکشات نام سے جانے جاتے ہیں وہ وجیا دیشمی تہوار کے دن سے منڈگل مندر میں پوجاکرکہ وہاں سے انہوں نے اپنی سماجی خدمت کا آغاز کیا ہے بتایا جارہا ہے ایک سنئیر وزیر نے انہیں یہاں سیاست کرنے کے لئے بھیجا ہے وہ بھی چنتامنی حلقہ کے چند دیہاتوں کا گشت کرکہ سماجی خدمت کررہے ہیں ابھی یہ نہیں معلوم ہورہا ہے کہ وہ کونسی پارٹی میں شامل ہوں گے یا آزاد امیدوار کے طور پر اسمبلی انتخابات کا سامنا کریں گے ۔جبکہ چنتامنی حلقہ کے سابق رُکن اسمبلی ڈاکٹر ایم سی سدھاکر جو پچھلے چند مہینے قبل کانگریس پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی انہوں نے بھی اسمبلی انتخابات کے لئے تیاریاں شروع کردی ہے وہ بھی ہر ایک ہندو مسلم تقریبات میں شرکت کرکہ عوام کا دل جیتنے کی کوشش میں لگیں ہوئے ہیں سابق رُکن اسمبلی نے عزم کر رکھا ہے کہ اُنہیں کسی بھی طرح آنے والے اسمبلی انتخابات میں کامیاب ہونا ہے ان کے علاوہ رُکن اسمبلی جے کے کرشناریڈی پھر سے جنتادل(ایس)کے امیدوار کے طورپر اسمبلی انتخابات کا سامنا کرنا چاہتے ہیں کرشناریڈی بھی بیشتر طبقات کے احباب کو جنتادل(ایس)پارٹی میں شامل کرکہ اُن کو عہدے دے رہے ہیں۔ ایسے میں مقامی مسلمانوں کو شکایت ہے کہ جنتادل(ایس)پارٹی میں کسی مسلمان کو کوئی عہدہ نہیں دیا گیا ہے صرف مسلمانوں کو بلدیہ صدر کا عہدہ دیا گیا تھا اس کے علاوہ اور کوئی عہدہ نہیں دیا گیا ہے ۔اب دیکھنا ہے کہ آنے والے اسمبلی انتخابات میں ان چاروں لوگوں میں کون کامیاب ہوتا ہے۔